Home / Urdu SMS /
Urdu SMS CollectionHere you will find large collection of both urdu and funny text sms messages in Urdu. Send these sms to your friends. نعت از داغ دہلوینعت از داغ دہلوی تو جو اللہ کا محبوب ہوا، خوب ہوا یا نبی، خوب ہوا، خوب ہوا، خوب ہوا Posted in: Urdu SMS, Shayari SMS By: Muhammad Imran غزل از میرزا غالبغزل از میرزا غالب درد ہو دل میں تو دوا کیجے Posted in: Urdu SMS, Shayari SMS By: Muhammad Imran غزل از میر عبدالحی تاباں
جفا سے اپنی پشیماں نہ ہو، ہوا سو ہوا
تری بلا سے مرے جی پہ جو ہوا سو ہوا سبب جو میری شہادت کا یار سے پوچھا کہا کہ اب تو اسے گاڑ دو، ہوا سو ہوا یہ دردِ عشق ہے میرا نہیں علاج طبیب ہزار کوئی دوائیں کرو، ہوا سو ہوا بھلے برے کی ترے عشق میں اڑا دی شرم ہمارے حق میں کوئی کچھ کہو، ہوا سو ہوا نہ پائی خاک بھی تاباں کی ہم نے پھر ظالم وہ ایک دم ہی ترے رو برو ہوا سو ہوا Posted in: Urdu SMS, Shayari SMS By: Muhammad Imran غزل از میر تقی میر
آ کے سجّادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد اب تو ہنس ہنس کے لگاتا ہے وہ مہندی لیکن خوں رلائے گا اسے رنگِ حنا میرے بعد وہ ہوا خواہِ چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح پہلے میں جاتا تھا اور بادِ صبا میرے بعد جاک کرتا ہوں اسی غم سے گریبانِ کفن کون کھولے گا ترے بندِ قبا میرے بعد تیز رکھنا سرِ ہر خار کو اے دشتِ جنوں شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد بعد مرنے کے میری قبر پر آیا وہ میر یاد آئی میرے عیسٰی کو دوا میرے بعد Posted in: Urdu SMS, Shayari SMS By: Muhammad Imran غزل از خواجہ حیدر علی آتش
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمینِ چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمھارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے، نشہ میں جھومتے ہیں مریدانِ پیرِ مغاں کیسے کیسے نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے نہ گورِ سکندر، نہ ہے قبرِ دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے تری کلکِ قدرت کے قربان آنکھیں دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے کرے جس قدر شکرِ نعمت، وہ کم ہے مزے لوٹتی ہے، زباں کیسے کیسے Posted in: Urdu SMS, Shayari SMS By: Muhammad Imran غزل از حکیم مومن
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج، راحت فزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا اس نے کیا جانے، کیا کیا لے کر دل کسی کام کا نہیں ہوتا نا رسائی سے دم رکے تو رکے میں کسی سے خفا نہیں ہوتا تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا رحم کر، خصمِ جانِ غیر نہ ہو سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو دستِ عاشق رسا نہیں ہوتا چارہء دل سوائے صبر نہیں سو تمھارے سوا نہیں ہوتا کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومن صنم آخر خدا نہیں ہوتا Posted in: Urdu SMS, Shayari SMS By: Muhammad Imran |
|