Explore our magnificent collection of Shayari SMS Messages. Send these Shayari sms to your friends all over the world.
نعت از داغ دہلوی
تو جو اللہ کا محبوب ہوا، خوب ہوا
یا نبی، خوب ہوا، خوب ہوا، خوب ہوا
غزل از میرزا غالب
درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کر...
جفا سے اپنی پشیماں نہ ہو، ہوا سو ہوا
تری بلا سے مرے جی پہ جو ہوا سو ہوا
سبب جو میری شہادت کا یار سے پوچھا
کہا کہ اب تو اسے گاڑ دو، ہوا سو ہوا
یہ دردِ عشق ہے میرا نہیں علاج طبیب
ہزار کوئی دوائیں کرو، ہوا سو ہوا
بھلے برے کی ترے عشق میں اڑا دی شرم
ہمارے حق میں کوئی کچھ کہو، ہوا سو ہوا
نہ پائی خاک بھی تاباں کی ہم نے پھر ظالم
وہ ایک دم ہی ترے رو برو ہوا سو ہوا
آ کے سجّادہ نشیں قیس ہوا میرے بعد
نہ رہی دشت میں خالی کوئی جا میرے بعد
اب تو ہنس ہنس کے لگاتا ہے وہ مہندی لیکن
خوں رلائے گا اسے رنگِ حنا میرے بعد
وہ ہوا خواہِ چمن ہوں کہ چمن میں ہر صبح
پہلے میں جاتا تھا اور بادِ صبا میرے بعد
جاک کرتا ہوں اسی غم سے گریبانِ کفن
کون کھولے گا ترے بندِ قبا میرے بعد
تیز رکھنا سرِ ہر خار کو اے دشتِ جنوں
شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد
بعد مرنے کے میری قبر پر آیا وہ میر
یاد آئی میرے عیسٰی کو دوا میرے بعد
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے
کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
زمینِ چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
تمھارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں
گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے
بہار آئی ہے، نشہ میں جھومتے ہیں
مریدانِ پیرِ مغاں کیسے کیسے
نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھا
تڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے
نہ گورِ سکندر، نہ ہے قبرِ دارا
مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں
ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے
تری کلکِ قدرت کے قربان آنکھیں
دکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے
کرے جس قدر شکرِ نعمت، وہ کم ہے
مزے لوٹتی ہے، زباں کیسے کیسے
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج، راحت فزا نہیں ہوتا
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا
اس نے کیا جانے، کیا کیا لے کر
دل کسی کام کا نہیں ہوتا
نا رسائی سے دم رکے تو رکے
میں کسی سے خفا نہیں ہوتا
تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر
ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا
رحم کر، خصمِ جانِ غیر نہ ہو
سب کا دل ایک سا نہیں ہوتا
دامن اس کا جو ہے دراز تو ہو
دستِ عاشق رسا نہیں ہوتا
چارہء دل سوائے صبر نہیں
سو تمھارے سوا نہیں ہوتا
کیوں سنے عرضِ مضطر اے مومن
صنم آخر خدا نہیں ہوتا